کراچی، اجتماعی افطاری کی خوبصورت روایت ممتاز کرنے کا سبب
کراچی کے
شہریوں کی اجتماعی افطاری کی خوبصورت روایت جہاں کراچی والوں کو
دوسروں سے ممتازکرتی ہے وہیں رحمتوں کاخزانے لوٹنے کاذریعہ بھی ہے۔شہر کی
چھوٹی بڑی شاہراہوں پر شہریوں کی جانب سے روڈ سائڈ افطاری کا اہتمام
بھی کیا جاتا ہے،جس سے مسافر اورمستحقین دونوں فیضیاب ہوتے ہیں۔
شہر میں ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے شہری وقت پراپنے گھر نہیں پہنچ پاتے
اورانہیں افطاری راستے میں ہی کرنا پڑتی ہے،مختلف سڑکوں پر اللہ تعالیٰ کی
رحمتوں کے خزانے لوٹنے کیلئے مخیر حضرات اجتماعی افطاری کااہتمام کرتے ہیں
جس میں پانی،شربت، کھجور،پھل اورچٹ پٹی چیزیں بھی رکھی جاتی ہیں۔
غریب افراد اور ٹریفک میں پھنسے ہوئے لوگ ان اجتماعی افطاریوں کاحصہ بنتے
ہیں اور اپنا روزہ اجتماعی افطاری کے اہتمام میں ہی کھولتے ہیں۔
اس موقع پر ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے اجتماعی افطاری
کرانے والے نوجوان محمد علی کا کہنا تھا کہ ایک تو لوگ بے روزگار بھی ہیں
اور مسافر بھی ہیں، بیچ میں اتر کر پوری پوری بسوں میں سوار افراد افطار
کرلیتی ہیں،ہم شربت بانٹتے ہیں، لوگ کہتے ہیں جیسے ہم گھر میں افطار
کررہے ہیں۔
ایک شہری شہاب احمد کا کہنا تھا کہ میں یہاں سے گھر جارہا تھا میں نے یہاں
کا انتظام دیکھا ویسے تو کراچی میں ہر جگہ اچھے سے اچھا افطار کا اہتمام
ہوتا ہے لہٰذا میں یہاں رک گیا اور افطار کرکے گھر جاؤں گا۔
ایک
رکشہ ڈرائیور نواز علی کا کہنا تھاکہ میں رکشہ چلاتا ہوں، کاروبار ہے ہی
نہیں یہاں پر جگہ جگہ روزہ کھلوایا جاتا ہے میں بھی یہاں روزہ کھول لیتا
ہوں ، پیسے بچ جاتے ہیں جس سے گھر کی ضرورت کا سامان لے جاتا ہوں۔