لاہور میں اسموگ نے ایک بار پھر خطرناک صورتحال اختیار کر لی ہے
font size="3" face="jameel-noori-nastaleeq">لاہور میں اسموگ نے ایک بار پھر خطرناک صورتحال اختیار کر لی ہے۔ فضائی آلودگی، جگہ جگہ کھدائی اور اڑتی دھول نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ سانس، آنکھوں اور گلے کی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں جبکہ شہری حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔لاہور اس وقت شدید اسموگ کی لپیٹ میں ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں ترقیاتی کاموں کے نام پر کی جانے والی کھدائی نے دھول مٹی میں اضافہ کر دیا ہے۔ سڑکوں پر اڑتی مٹی اور فضائی آلودگی نے شہریوں کو شدید متاثر کیا ہے۔اسموگ کے باعث اسپتالوں میں سانس، دمہ، نزلہ، زکام اور آنکھوں میں جلن کے مریضوں کی تعداد میں واضح اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ بزرگ، بچے اور مریض سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ سانس لینا مشکل ہو گیا ہے، باہر نکلیں تو آنکھوں میں جلن شروع ہو جاتی ہے۔ ہر طرف دھول ہی دھول ہے، حکومت کو چاہیے کہ کام مکمل ہونے تک سڑکوں پر پانی کا چھڑکاؤ کرے۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اسموگ میں غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز کیا جائے، ماسک کا استعمال کیا جائے اور بچوں کو خصوصی طور پر محفوظ رکھا جائے۔شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ترقیاتی کاموں کو جلد مکمل کیا جائے۔ سڑکوں پر باقاعدہ پانی کا چھڑکاؤ کیا جائے۔ اسموگ کنٹرول کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔