لاہور بار ایسوسی ایشن کی جانب سے چھبیس ویں اور ستائیس ویں آئینی ترمیم کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی
font size="3" face="jameel-noori-nastaleeq">لاہور بار ایسوسی ایشن کی جانب سے چھبیس ویں اور ستائیس ویں آئینی ترمیم کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ ریلی مختلف راستوں سے ہوتی ہوئی اپنے مقررہ مقام تک پہنچی۔ ریلی کے شرکاء وکلاء اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرذ اٹھائے ہوئے تھے جبکہ وکلاء مظاہرین کی جانب سے نعرے بازی کا سلسلہ بھی مسلسل جاری رہا۔ مظاہرین نے آئینی ترمیم کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کردیا جبکہ پنجاب پروٹیکشن آف آنرشپ پراپرٹی آرڈیننس 2025 کو بھی نامنظور کردیا۔ مظاہرے میں شریک خاتون وکیل کا کہنا تھا کہ اس وقت جو ملک میں حالات چل رہے ہیں ہم سمجھتے ہیں اس پر ہمیں آواز اٹھانی چاہیے۔ ناانصافی کی انتہا ہے۔ آئین کو روند دیا گیا ہے۔ جب ملک میں آئین ہی موجود نہ ہو تو آگے کے معاملات کیسے لے کر چلیں گے۔ وکیل وہ طبقہ ہے جس نے ہمیشہ ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ مظاہرے میں شامل ایک اور وکیل نے کہا کہ اس ملک کے ساتھ ترمیم گردی کرکے عدلیہ کا مذاق بنایا جارہا ہے۔ یہ وکلاء کا ریفرنڈم قوم کے سامنے ثابت کررہا ہے کہ ہم اس کے خلاف ہے۔