لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے تحت چھبیس ویں اور ستائیس ویں آئینی ترمیم کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی
font size="3" face="jameel-noori-nastaleeq">لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے تحت چھبیس ویں اور ستائیس ویں آئینی ترمیم کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ ریلی میں وکلاء کی بڑی تعداد کے علاوہ خواتین وکلاء بھی شامل تھیں۔ جنہوں نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھائے ہوئے تھے جبکہ مظاہرین کی جانب سے نعرے بازی کا سلسلہ بھی مسلسل جاری رہا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہم چھبیس ویں اور ستائیس ویں آئینی ترمیم کو مسترد کرتے ہیں۔ ہم وفاقی آئینی عدالت کو نہیں مانتے۔ وکلاء آئین کے محافظ ہیں اور ہم دستور بچانے نکلیں ہیں۔ ہائی کورٹ میں رٹ کرنے کا حق بحال کیا جائے۔ کالے کوٹ اور بار کے وقار کیلئے ہم سب وکلاء متحد ہیں۔ ریلی میں شریک ممبر پاکستان بار کونسل شفقت محمود چوہان کا کہنا تھا کہ آج قانون کے محافظ ناانصافی کا شکار ہیں۔ ممبر لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن چوہدری ابرار حسین ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں نے اپنے مفادات کی خاطر آئین سے چھیڑ چھاڑ کی ہے۔ ہم اسے نہیں مانتے۔ وکلاء کے قاتلوں کو گرفتار کیا جانا چاہیے۔ ہم قاتلوں کی گرفتاری تک سکون سے نہیں بیٹھیں گے۔