سردی نے دروازہ کھٹکھٹایا اور لُنڈا بازاروں میں گہما گہمی بڑھ گئی۔لاہور، کراچی، راولپنڈی سمیت ملک کے بڑے شہروں میں سیکنڈ ہینڈ گرم ملبوسات کے اسٹالز پر خریداروں کا تانتا بندھا ہوا ہے
font size="3" face="jameel-noori-nastaleeq">سردی نے دروازہ کھٹکھٹایا اور لُنڈا بازاروں میں گہما گہمی بڑھ گئی۔لاہور، کراچی، راولپنڈی سمیت ملک کے بڑے شہروں میں سیکنڈ ہینڈ گرم ملبوسات کے اسٹالز پر خریداروں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔کوئی جیکٹ تلاش کر رہا ہے… کوئی سوئٹر، تو کوئی کوٹ بچے موزے یا گرم ٹوپیوں کی خریداری میں مگن دکھائی دیتے ہیں۔مہنگائی کے دباؤ نے عوام کو نئے کپڑوں سے زیادہ لُنڈا بازار کی طرف مائل کر دیا ہے۔دکانداروں کے مطابق اس سال خریداروں کی تعداد پہلے سے زیادہ ہے، خاص طور پر نوجوان اور مزدور طبقہ گرم کپڑوں کی تلاش میں بازاروں میں نظر آرہا ہے۔لُنڈا بازاروں میں بڑھتی ہوئی گہما گہمی اس بات کا ثبوت ہے کہ سردیوں کا موسم پوری طرح دستک دے چکا ہے… اور عوام سستی خریداری کے لیے انہی بازاروں کو ترجیح دے رہی ہے۔ عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ ان بازاروں میں بھی کم از کم چیک اینڈ بیلنس کا نظام ہونا چاہیے۔