پنجاب کا دارالحکومت لاہور ایک بار پھر شدید فضائی آلودگی کی زد میں ہے
font size="3" face="jameel-noori-nastaleeq">پنجاب کا دارالحکومت لاہور ایک بار پھر شدید فضائی آلودگی کی زد میں ہے۔ شہر پر سموگ کا گہرا سایہ چھا گیا۔ جس نے شہریوں کی صحت، معمولاتِ زندگی اور کاروبار کو شدید متاثر کیا ہے۔ لاہور شہر میں فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ ہوا کے خراب معیار کے باعث شہریوں کو سانس کی شدید دشواریوں کا سامنا ہے جبکہ صبح کے اوقات میں مارکیٹوں اور آمدورفت کا شیڈول بھی متاثر ہو رہا ہے۔ خاص طور پر موٹر بائیک رائیڈر اور کم آمدنی والے طبقے کی روزی روٹی متاثر ہے۔اسلم نامی ایک دکاندار کا کہنا تھا کاروباری طبقہ سموگ کی وجہ سے شدید پریشان ہے۔ مارکیٹیں صبح کے اوقات میں سموگ کی شدت کی وجہ سے تاخیر سے کھلتی ہیں، جس سے کاروبار کا شیڈول درہم برہم ہوتا جارہا ہے۔وقار نامی موٹر بائیک رائیڈر نے صحت کے سنگین مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ سموگ کی وجہ سے روز کوئی نہ کوئی بیماری لگ جاتی ہے، جن میں بخار، گلا خراب ہونا، ناک اور آنکھوں سے پانی بہنا، اور آنکھوں میں چبھن شامل ہیں۔ شہری انتظامیہ کی عدم توجہی اور صفائی کے دوران لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کی جانب سے پانی کا چھڑکاؤ نہ کرنے کو سموگ میں اضافے کا بڑا سبب قرار دے رہے ہیں۔ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سڑکوں اور خالی جگہوں پر پانی کا باقاعدہ چھڑکاؤ کیا جائے، پودے لگائے جائیں، اور سموگ کے مسئلے کے مستقل حل کے لیے مزید مؤثر اور دیرپا اقدامات کیے جائیں۔ جبکہ شہری غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور گھر سے باہر نکلتے وقت ماسک کا استعمال یقینی بنائیں۔شہریوں کا مزید کہنا ہے کہ سموگ کے سنگین چیلنج سے نمٹنے کے لیے فوری حکومتی اقدامات ناگزیر ہیں۔