گمشدگی سے پناہ تک — ایک بچی کا سفر
span style="font-family: jameel-noori-nastaleeq; font-size: medium;">ابھی ابھی کےمطابق کراچی کی خاموش شام میں میٹھادر ایدھی ہیڈ آفس کا صحن خوشی اور آنسوؤں سے بھرا ہوا تھا۔ 27 سالہ کرن عبدالمجید کو آج اس کے والدین کے سپرد کیا جارہا تھا — وہی والدین جن سے وہ 17 سال قبل بچھڑ گئی تھی۔یہ صرف ایک ملاقات نہیں تھی، یہ ایک زندگی کی بحالی تھی… ایک کہانی جو دکھ، تنہائی، تلاش اور امید سے گزرتے ہوئے آج انجام کو پہنچی۔2008 میں اسلام آباد سے لاپتہ ہونے والی صرف 10 سالہ کرن کو پولیس نے بے سہارا حالت میں پایا اور اسے ایدھی شیلٹر ہوم منتقل کردیا۔بچی کی کوئی شناخت نہیں تھی، کوئی گھر کا سراغ نہیں، کوئی رابطہ نمبر نہیں تھا۔کرن پہلے ہفتوں تک کسی پر اعتبار نہیں کرتی تھی، مگر ایدھی کے عملے نے اُسے گھر جیسی محبت دی، اور آہستہ آہستہ کرن ایک نئی زندگی سے مانوس ہونے لگی۔سال گزرے، موسمیں بدلے، شہر بدلے، مگر کرن کی زندگی شیلٹر ہوم کی چار دیواری میں ہی سمٹی رہی۔عملے نے کبھی اس کی اصل فیملی کی تلاش ترک نہ کی۔کرن پڑھتی رہی، سلائی سیکھی، اور دیگر بچیوں کی مددگار بھی بنی۔ایدھی انتظامیہ اُسے خوش اخلاق، صابر اور محنتی کہہ کر یاد کرتی ہے۔ 2025 میں اچانک ایک نئی پیش رفت سامنے آئی۔ڈیٹابیس ورک، پرانی فائلوں کی جانچ، اور معلوماتی رابطوں کے بعد کرن کے والدین تک پہنچنا ممکن ہوا۔اور یوں 24 نومبر 2025 — پیر کے دن — وہ دن آگیا جس کا انتظار 17 برس تک کیا گیا۔ایدھی ہیڈ آفس میٹھادر میں فیصل ایدھی کی اہلیہ نے کرن کو اس کے والدین کے حوالے کیا۔کرن عبدالمجید کی کہانی آج اختتام نہیں ہوئی کیوں کہ انسانیت کا دیا کبھی نہیں بجھتا، اگر اسے برقرار رکھنے والے لوگ موجود ہوں۔