ابھی ابھی معلوم ہوا ہے کہ پاکستان میں اگر کسی چیز کو قومی مشروب کہا جائے تو وہ یقیناً چائے ہے۔
font size="3" face="jameel-noori-nastaleeq">ابھی ابھی معلوم ہوا ہے کہ پاکستان میں اگر کسی چیز کو قومی مشروب کہا جائے تو وہ یقیناً چائے ہے۔چاہے صبح کا آغاز ہو، شام کی محفل یا دفتر کی چھٹی چائے کے بغیر سب کچھ ادھورا لگتا ہے۔ملک کے ہر شہر، ہر گلی، اور ہر دفتر میں چائے کا کپ ہاتھ میں لیے لوگ دن کا آغاز کرتے ہیں۔پاکستانیوں اور چائے کا تعلق صرف مشروب تک محدود نہیں — یہ احساس، روایت، اور مہمان نوازی کی علامت ہے تاہم اب مہنگائی کے اس دور میں اس مہمان نوازی کو جیسے نظر سی لگ گئی ہے کیوں کہ اب ہر چند ایک کو مہمان کیلئے چائے پلانا ممکن نہیں رہا کیوں کہ دودھ پتی چائے کا ایک کپ ایک سو روپے میں میسر ہے جو کہ عوام کے بس سے باہر ہو گیا ہے۔ ایک دکاندار کے مطابق پہلے چینی اور چائے کی پتی سستی تھی تو چائے کے دام بھی مناسب تھے اب چینی اور چائے کی پتی پیچھے سے مہنگی مل رہی ہے جس کی وجہ سے چائے کے ریٹ بڑھ گئے ہیں۔ ایک شہری کا کہنا تھا کہ صبح ناشتے میں اور شام کے اوقات میں چائے پینا بہت مشکل ہوگیاہے کیوں کہ موجودہ تنخواہ میں چائے کے بل ادا کرنا ممکن نہیں رہا۔خیال رہے کہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان دنیا کے اُن سرفہرست ممالک میں شامل ہے جہاں چائے کا استعمال سب سے زیادہ ہے —سالانہ دو لاکھ ٹن سے زائد چائے درآمد کی جاتی ہے۔