چترال، ریشن بجلی گھر ایک سال سے خراب،بیس ہزار سے زائد صارفین تاحال بجلی سے محروم
چترال کے بالائی علاقے ریشن کے مقام پر بننے والا پن بجلی گھر گزشتہ ایک
سال سے خراب پڑا ہوا ہے جس کی وجہ سے اس بجلی گھر سے مستفید ہونے والے بیس
ہزار گھرانے بھی بجلی سے تاحال محروم ہیں۔ اس بجلی گھر سے بیس ہزار میٹر
لوگوں کے گھروں میں نصب ہوچکے ہیں اسی حساب سے اس سے فائدہ اٹھانے والے ایک
لاکھ افراد بنتے ہیں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سال 2013 میں سیلاب آیا
تھا جس کی وجہ سے بجلی گھر کے ساتھ بہنے والے نالے (نہر) میں بھاری پتھر
آگئے جس نے پانی کا راستہ روک لیا۔ ان لوگوں نے بجلی گھر کے ریذیڈنٹ
انجینئر کو بروقت بتایا تھا کہ بلاسٹنگ کے ذریعے ان پتھروں کو توڑا جائے یا
اسے کسی مشین کے ذریعے ہٹایا جائے تاکہ پانی اپنا رخ تبدیل نہ کرے۔ان
لوگوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے ان کی ایک بھی نہ سنی اور جب 2015میں
سیلاب آیا تو ان پتھروں کی وجہ سے سیلاب کا پانی نالے میں بہنے کی بجائے
اوپر چڑھ کر بجلی گھر کے اوپر سے بہنے لگا جس میں بھاری پتھر، کیچڑ اور
ملبے نے بجلی گھر کو ڈھانپ لیا اور اس کی چھت بھی گرگئی۔ان لوگوں کا کہنا
ہے کہ اس کے بعد آج تک یہ بجلی گھر خراب پڑا ہوا ہے اور حکومت نے اس کی
دوبارہ تعمیر یا مرمت کیلئے کوئی خاص قدم نہیں اٹھایا۔متاثرین کا کہنا ہے
کہ بجلی گھر سے ہر ماہ پچاس لاکھ تک آمدنی ہوتی تھی اور اب اس کے تباہ ہونے
کی وجہ سے ایک طرف عوام بجلی سے محروم ہیں تو دوسری طرف حکومت کے خزانے کو
بھی ماہوار پچاس لاکھ روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے۔بجلی گھر کو جانے والا
راستہ بھی بند پڑا ہے کیونکہ لکڑیوں کا عارضی پل بھی پانی کی وجہ سے ٹوٹ
چکا ہے اور اب یہاں تک کوئی گاڑی نہیں جاتی۔متاثرین نے حکومت سے مطالبہ کیا
ہے کہ ریشن بجلی گھر کو فوری طور پر دوبارہ تعمیر کیا جائے تاکہ ایک طرف
لوگوں کو بجلی فراہم کی جاسکے تو دوسری طرف سرکاری خزانے کو پہنچنے والے
نقصان سے بچایاجاسکے۔